Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-A'raf 7:173

7:173
او تقولوا انما اشرك اباونا من قبل وكنا ذرية من بعدهم افتهلكنا بما فعل المبطلون ١٧٣
أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ ١٧٣
أَوۡ
تَقُولُوٓاْ
إِنَّمَآ
أَشۡرَكَ
ءَابَآؤُنَا
مِن
قَبۡلُ
وَكُنَّا
ذُرِّيَّةٗ
مِّنۢ
بَعۡدِهِمۡۖ
أَفَتُهۡلِكُنَا
بِمَا
فَعَلَ
ٱلۡمُبۡطِلُونَ
١٧٣
Of dat jullie niet zullen zeggen: “Het waren slechts onze vaders vroeger die anderen als deelgenoot in de aanbidding bij Allah namen en wij waren (slechts) hun afstammelingen; zult U ons dan vernietigen vanwege de daden van mannen die de leugen praktiseerden?”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

لیکن یہ اللہ کی نہایت ہی مہربانی ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے اس فطری عہد کے باوجود انحراف اختیار کرسکتا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے صحیح راہ سے شیاطین جن و انس منحرف کرتے ہیں اور یہ جن و انس کے شیاطین بڑی ہوشیاری سے انسان کی کمزوریوں کو کام میں لاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رحم یہ فرمایا کہ اس نے انسان کو محض اپنی فطری صلاحیت پر ہی ذمہ دار ہدایت نہیں ٹھہرایا۔ اور نہ اپنی عقلی اور فطری قوت ادراک اور تمیز پر اس سے جواب طلبی فرمائی۔ بلکہ سا کے باوجود اللہ نے رسول بھیجے ، جنہوں نے تفصیلات کے ساتھ آیات و دلائل پیش کیے تاکہ وہ فطرت کے اوپر چڑھے ہوئے زنگ کو اتاریں۔ اسے صیقل کریں اور انسان کو خواہشات اور شہوات کی بندگی سے چھڑائیں۔ اگرچہ اللہ کو معلوم تھا کہ رسولوں اور دعوتوں کے بغیر بھی انسان کی ہدایت کے لیے اس کی فطری استعداد اور عقلی قوت کافی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے حساب و کتاب کا مدار رسالت اور دعوت پر رکھا ہے۔