Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Adh-Dhariyat 51:12

51:12
يسالون ايان يوم الدين ١٢
يَسْـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ ١٢
يَسۡـَٔلُونَ
أَيَّانَ
يَوۡمُ
ٱلدِّينِ
١٢
Zij vragen: “Wanneer zal de dag van de vergelding zijn?”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 51:10tot 51:19

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔