Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Adh-Dhariyat 51:57

51:57
ما اريد منهم من رزق وما اريد ان يطعمون ٥٧
مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍۢ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ٥٧
مَآ
أُرِيدُ
مِنۡهُم
مِّن
رِّزۡقٖ
وَمَآ
أُرِيدُ
أَن
يُطۡعِمُونِ
٥٧
Ik wens geen voorzieningen van hen en Ik wens niet dat zij Mij voeden.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 51:56tot 51:60

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔

اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔

پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔

ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔