Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Fussilat 41:25

41:25
۞ وقيضنا لهم قرناء فزينوا لهم ما بين ايديهم وما خلفهم وحق عليهم القول في امم قد خلت من قبلهم من الجن والانس انهم كانوا خاسرين ٢٥
۞ وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَـٰسِرِينَ ٢٥
۞ وَقَيَّضۡنَا
لَهُمۡ
قُرَنَآءَ
فَزَيَّنُواْ
لَهُم
مَّا
بَيۡنَ
أَيۡدِيهِمۡ
وَمَا
خَلۡفَهُمۡ
وَحَقَّ
عَلَيۡهِمُ
ٱلۡقَوۡلُ
فِيٓ
أُمَمٖ
قَدۡ
خَلَتۡ
مِن
قَبۡلِهِم
مِّنَ
ٱلۡجِنِّ
وَٱلۡإِنسِۖ
إِنَّهُمۡ
كَانُواْ
خَٰسِرِينَ
٢٥
En Wij hebben hen (duivelse) metgezellen toegekend, die (hen verblinden door) de dingen (te) verfraaien door verdraaiing: zowel van wat er zich vόόr hen bevindt (hun wereldse, zondige levens waarin het genot wordt nagejaagd) als van wat er zich achter hen bevindt (hun ontkenning van de afrekening en de opstanding). En het woord is tegen hen gerechtvaardigd zoals het gerechtvaardigd was tegen degenen onder de voorafgaande generaties Djinns en mensen. Voorwaar, zij waren (allen) verliezers.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا اقتدار تو تمہارے دلوں پر بھی قائم ہے۔ جب تم زمین میں تھے اس وقت بھی تمہارے دل اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے۔ جب تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ جب اللہ کو تمہارے دلوں کا میلان فساد معلوم ہوا تو اللہ نے تمہارے دلوں پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جو جنوں میں سے بھی تھے اور انسانوں میں سے بھی ۔ یہ برائی کو تمہارے دل و دماغ کے لئے مزین کرتے تھے۔ یہ ساتھی ان کو اس قافلے میں ملا دیتے تھے جس کا انجام گھاٹے کا لکھا گیا تھا۔ یوں ان پر کلمہ عذاب اور فیصلہ عذاب صادق ہوا :

ذرا دیکھیں تو سہی کہ وہ کس حد تک اللہ کے قبضے میں ہیں ، جس کی بندگی کرنے سے وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ اور ان کے دل جو ان کے پہلوؤں میں ہیں ، وہ ان کو عذاب اور برے انجام کی طرف لے جارہے ہیں۔ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے اس پر وہ ایسے ساتھ مسلط کردیتا ہے جو اس کے دل میں وسوسہ اندازی کا کام کرتے ہیں اور اس کے ماحول میں جو بری چیز ہوتی ہے اس کو اس کے لئے مزین کرتے ہیں اور اس کے جو اعمال ہوتے ہیں اس کی نظروں میں اچھے بناتے ہیں ، ان کو ان میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی اور انسان کے لئے سب سے بڑی بیماری یہ ہوتی ہے کہ اس کے برے افعال اور اس کی گمراہی کے بارے میں اس کا احساس ختم ہوجائے۔ اپنی ذات کے ہر پہلو کے بارے میں وہ یہ دیکھنے لگے کہ وہ اچھا ہے ۔ اس مقام پر جب انسان پہنچ جائے تو پھر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس گلے میں شامل ہوگئے جس نے ہلاکت کی طرف جانا تھا۔ یعنی ان گروہوں میں جن پر اللہ کا فیصلہ طے ہوچکا تھا ، جنوں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی کہ :

انھم کانوا خسرین (41 : 25) ” کہ یقیناً وہ خسارہ میں رہ جائیں گے “۔

ان لوگوں کے جو ساتھی تھے ان کو گمراہ کرنے کے لئے ، انہوں نے ان کو آمادہ کیا کہ قرآن کا مقابلہ اس طرح کرو کہ اسے نہ سنو ، نہ سننے دو کیونکہ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس کے اندر غضب کی تاثیر ہے۔