Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: At-Tawbah 9:73

9:73
يا ايها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم وماواهم جهنم وبيس المصير ٧٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ جَـٰهِدِ ٱلْكُفَّارَ وَٱلْمُنَـٰفِقِينَ وَٱغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ ٧٣
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّبِيُّ
جَٰهِدِ
ٱلۡكُفَّارَ
وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ
وَٱغۡلُظۡ
عَلَيۡهِمۡۚ
وَمَأۡوَىٰهُمۡ
جَهَنَّمُۖ
وَبِئۡسَ
ٱلۡمَصِيرُ
٧٣
O, Profeet! Streef hard tegen de ongelovigen en de hypocrieten en wees streng voor hen, hun verblijfplaats is de Hel en dit is zeker de ergste bestemming.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

رسول اللہ ﷺ نے منافقین کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک کیا۔ ایک عرصے تک آپ ان سے صرف نظر کرتے رہے اور چشم پوشی فرمائی۔ لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ خوش اخلاقی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خداوند قدوس کی طرف سے اب حکم آ اجتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے رویے میں اب ذرا سنجیدگی پیدا کریں۔ اور اب ان کے ساتھ وہ سلوک اختیار کیا جائے جو کفار کے ساتھ ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب جہاد کا اطلاق دونوں پر کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سخت رویہ اختیار کیا جائے جس میں کوئی نرمی نہ ہو۔

تحریک اسلامی کو کئی مرحل درپیش ہوتے ہیں۔ بعض مواقع پر نرمی ضروری ہوتی ہے اور بعض حالات میں سکتی مفید ہوتی ہے۔ جب نرمی کا دور ختم ہوا اور سختی کا تقاضا ہو تو سختی ضروری ہے۔ صبر بھی ایک دور کے لیے ہوتا ہے جس صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو پھر سختی کا دور شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ تحریک کو مختلف حالات درپیش ہوتے ہیں اور مختلف حالات کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں۔ نرمی اور مہلت پر مہلت دیے چلے جانے سے بعض اوقات حالات اور خراب ہوتے ہیں۔

منافقین کے ساتھ سختی اور جہاد کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے واقعہ ہوا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ان کے ساتھ سختی کی جائے جس طرح حضرت علی سے روایت ہے اور ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ان کو معاشرے میں ننگا کردیا جائے اور ان کے ساتھ رویے میں سختی کی جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے نقل ہے کہ حضور نے کسی منافق کو قتل نہیں کیا۔