Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: At-Tawbah 9:83

9:83
فان رجعك الله الى طايفة منهم فاستاذنوك للخروج فقل لن تخرجوا معي ابدا ولن تقاتلوا معي عدوا انكم رضيتم بالقعود اول مرة فاقعدوا مع الخالفين ٨٣
فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٍۢ مِّنْهُمْ فَٱسْتَـْٔذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخْرُجُوا۟ مَعِىَ أَبَدًۭا وَلَن تُقَـٰتِلُوا۟ مَعِىَ عَدُوًّا ۖ إِنَّكُمْ رَضِيتُم بِٱلْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ فَٱقْعُدُوا۟ مَعَ ٱلْخَـٰلِفِينَ ٨٣
فَإِن
رَّجَعَكَ
ٱللَّهُ
إِلَىٰ
طَآئِفَةٖ
مِّنۡهُمۡ
فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ
لِلۡخُرُوجِ
فَقُل
لَّن
تَخۡرُجُواْ
مَعِيَ
أَبَدٗا
وَلَن
تُقَٰتِلُواْ
مَعِيَ
عَدُوًّاۖ
إِنَّكُمۡ
رَضِيتُم
بِٱلۡقُعُودِ
أَوَّلَ
مَرَّةٖ
فَٱقۡعُدُواْ
مَعَ
ٱلۡخَٰلِفِينَ
٨٣
Als Allah jou (O Mohammed) naar een deel van hen (de hypocrieten) terugbrengt en zij vragen jouw toestemming om uit te gaan (om te vechten), zeg dan: “Nooit zullen jullie met mij uit gaan, en nimmer zullen jullie de vijand met mij bevechten; het behaagde jullie de eerste keer om te blijven zitten, zit dan met degenen die achterblijven.”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
مکاروں کی سزا ٭٭

فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ اس غزوے سے واپس مدینے پہنچا دے اور ان میں سے کوئی جماعت تجھ سے کسی اور غزوے میں تیرے ساتھ چلنے کی درخواست کرے تو بطور ان کو سزا دینے کے تو صاف کہ دینا کہ نہ تو تم میرے ساتھ والوں میں میرے ساتھ چل سکتے ہو نہ تم میری ہمراہی میں دشمنوں سے جنگ کر سکتے ہو، تم جب موقعہ پر دغا دے گئے اور پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہے تو اب تیاری کے کیا معنی؟

پس یہ آیت مثل آیت «وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [6-الانعام:110] ‏ الخ کے ہے۔ بدی کا برا بدلہ بدی کے بعد ملتا ہے جیسے کہ نیکی کی جزا بھی نیکی کے بعد ملتی ہے۔

عمرہ حدیبیہ کے وقت قرآن نے فرمایا تھا۔ «سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْــطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ» [48-الفتح:15] ‏ الخ یعنی یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ تم سے جب تم غنیمتیں لینے چلو گے کہیں گے کہ ہمیں اجازت دو ہم بھی تمہارے ساتھ ہو لیں، یہاں فرمایا کہ ان سے کہ دینا کہ بیٹھ رہنے والوں میں ہی تم بھی رہو، جو عورتوں کی طرح گھروں میں گھسے رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر3547