Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Furqan 25:17

25:17
ويوم يحشرهم وما يعبدون من دون الله فيقول اانتم اضللتم عبادي هاولاء ام هم ضلوا السبيل ١٧
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَقُولُ ءَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِى هَـٰٓؤُلَآءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا۟ ٱلسَّبِيلَ ١٧
وَيَوۡمَ
يَحۡشُرُهُمۡ
وَمَا
يَعۡبُدُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
فَيَقُولُ
ءَأَنتُمۡ
أَضۡلَلۡتُمۡ
عِبَادِي
هَٰٓؤُلَآءِ
أَمۡ
هُمۡ
ضَلُّواْ
ٱلسَّبِيلَ
١٧
En op de Dag waarop Hij hen, en dat wat zij naast Allah aanbidden verzamelt, zal Hij zeggen: “Waren jullie het, die Mijn dienaren deden dwalen of zijn zij zelf van het (juiste) Pad afgedwaald?”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 25:17tot 25:19

’’ذکر‘‘ کی تشریح مفسر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ نَسُوا مَا أَنْزَلْتَهُ إِلَيْهِمْ عَلَى أَلْسِنَةِ رُسُلِكَ، مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى عِبَادَتِكَ وَحْدَكَ لا شريك لك (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 99 )۔ یعنی،وہ اس دعوتي پیغام کو بھول گئے جو ان کی طرف تونے اپنے پیغمبروں کی زبان سے تنہا اور لاشریک اپنی عبادت کے ليے اتارا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخاطب قومیں معروف معنوں میں کافر اور مشرک قومیں نہ تھیں۔ وہ دراصل پچھلے انبیاء کی امتیں تھیں۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو خدا کی ہدایت پہنچائی۔ مگر زمانہ گزرنے کے بعد وہ دنیا میں مشغول ہوگئے اور اپنے بزرگوں اور پیغمبروں کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ خدا کے یہاں ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو اس قسم کے تمام عقیدے باطل ثابت ہوں گے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ کی پکڑ سے بچانے والا خود اللہ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔