Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Furqan 25:50

25:50
ولقد صرفناه بينهم ليذكروا فابى اكثر الناس الا كفورا ٥٠
وَلَقَدْ صَرَّفْنَـٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا۟ فَأَبَىٰٓ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورًۭا ٥٠
وَلَقَدۡ
صَرَّفۡنَٰهُ
بَيۡنَهُمۡ
لِيَذَّكَّرُواْ
فَأَبَىٰٓ
أَكۡثَرُ
ٱلنَّاسِ
إِلَّا
كُفُورٗا
٥٠
En voorwaar, Wij hebben het verdeeld onder hen zodat zij de Gunst van Allah mogen gedenken. Maar de meeste mensen weigeren en accepteren niets dan het ongeloof of de ondankbaarheid.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 25:50tot 25:52

قرآن میں توحید اور آخرت کے مضامین مختلف انداز اور مختلف اسلوب سے بار بار بیان ہوئے ہیں۔ آدمی اگر سنجیدہ ہو تو یہ مضامین اس کو تڑپا دینے کے ليے کافی ہیں۔ مگر غافل انسان کسی دلیل سے کوئی اثرنہیں لیتا۔

’’ اس کے ذریعہ جہاد کبیر کرو‘‘ سے مراد قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرنا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قرآن کے ذریعہ جہاد، بالفاظ دیگر، پُرامن دعوتی جدوجہد ہی اصل جہاد ہے۔ بلکہ یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ منکر لوگ اگر یہ کوشش کریں کہ اہلِ ایمان کو دعوت کے میدان سے ہٹا کر دوسرے میدان میں الجھائیں تب بھی اہل ایمان کی ساری کوشش یہ ہونی چاہيے کہ وہ اپنے عمل کو قرآنی دعوت کے میدان میں مرتکز رکھیں۔ اور اگر مخالفین کے ہنگاموں کی وجہ سے کسی وقت عمل کا میدان بدلتا ہوانظر آئے تو ہر ممکن تدبیر کرکے دوبارہ اس کو دعوت کے میدان میں لے آئیں۔