Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Hud 11:98

11:98
يقدم قومه يوم القيامة فاوردهم النار وبيس الورد المورود ٩٨
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ ٱلنَّارَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ ٩٨
يَقۡدُمُ
قَوۡمَهُۥ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
فَأَوۡرَدَهُمُ
ٱلنَّارَۖ
وَبِئۡسَ
ٱلۡوِرۡدُ
ٱلۡمَوۡرُودُ
٩٨
Hij zal vόόr zijn volk lopen op de Dag der Opstanding en hen in het vuur leiden. En slecht is zeker de plaats waar hij hen leidt.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 11:96tot 11:99

حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔

جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔