Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Qaf 50:16

50:16
ولقد خلقنا الانسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن اقرب اليه من حبل الوريد ١٦
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِۦ نَفْسُهُۥ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ ١٦
وَلَقَدۡ
خَلَقۡنَا
ٱلۡإِنسَٰنَ
وَنَعۡلَمُ
مَا
تُوَسۡوِسُ
بِهِۦ
نَفۡسُهُۥۖ
وَنَحۡنُ
أَقۡرَبُ
إِلَيۡهِ
مِنۡ
حَبۡلِ
ٱلۡوَرِيدِ
١٦
En zeker, Wij hebben de mens geschapen en Wij weten wat zijn ziel hem influistert. Wij zijn hem nader dan zijn eigen halsslagader.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 50:16tot 50:18

دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں’’ریکارڈنگ‘‘ کا ناقابلِ خطا نظام موجود ہے۔ انسان کی سوچ اس کے ذہنی پردہ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہورہی ہے۔ انسان کا ہر بول ہوائی لہروں کی صورت میں مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔ انسان کا عمل حرارتی لہروں کے ذریعہ خارجی دنیا میں اس طرح محفوظ ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی بھی وقت دہرایا جا سکے۔ یہ سب آج کی معلوم حقیقتیں ہیں۔ اور یہ معلوم حقیقتیں قرآن کی اس خبر کو قابل فہم بنا رہی ہیں کہ انسان کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کچھ خالق کے علم میں ہے۔ انسان کی ہر چیز فرشتوں کے رجسٹر میں درج کی جا رہی ہے۔