Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Sad 38:44

38:44
وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث انا وجدناه صابرا نعم العبد انه اواب ٤٤
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًۭا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَـٰهُ صَابِرًۭا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌۭ ٤٤
وَخُذۡ
بِيَدِكَ
ضِغۡثٗا
فَٱضۡرِب
بِّهِۦ
وَلَا
تَحۡنَثۡۗ
إِنَّا
وَجَدۡنَٰهُ
صَابِرٗاۚ
نِّعۡمَ
ٱلۡعَبۡدُ
إِنَّهُۥٓ
أَوَّابٞ
٤٤
(Allah zei tegen Ajoeb:) “En neem een bundel dun gras in je hand en sla daarmee (je vrouw) en verbreek je eed niet.“ Waarlijk! Wij hebben hem geduldig bevonden. Wat een uitmuntende dienaar! Waarlijk, hij is de meest berouwtonende.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

وخذبیدک ضغثا فاضرب به ولا تحنث (38: 44) ” تنکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے ماردے ، اپنی قسم بہ توڑ “۔ یہ سہولت ان کو اس لیے دی گئی کہ اس عظیم امتحان میں انہوں نے اللہ کی منشاء کے مطابق صبر کیا اور اطاعت شعار بندے کے طور پر رہے اور آخر میں اللہ ہی سے التجا کی۔

انا وجدنه۔۔۔ اواب (38: 44) ” ہم نے اسے صابر پایا۔ بہترین بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا “۔

یہ تین قصص تو قدرے تفصیل سے ذکر ہوئے۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی موجود مشکلات پر صبر کریں۔ اب رسولوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ انکے قصص میں بھی آزمائشیں اور صبر کے واقعات ہیں اور ان پر بھی اللہ کے انعامات اور فضل وکرم ہوتے رہے ہیں جس طرح حضرت داؤد حضرت سلیمان اور ایوب (علیہم السلام) کے قصص میں آزمائشیں اور فضل وکرم ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض انبیاء تو انسے پہلے گزرے ہیں اور معروف ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کے زمانے کا تعین نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن اور ہمارے ہاں حقیقی تاریخی مصارد کے اندر ان کے زمانے کا تعین نہیں کیا گیا۔