Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Adh-Dhariyat 51:30

51:30
قالوا كذالك قال ربك انه هو الحكيم العليم ٣٠
قَالُوا۟ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ ٣٠
قَالُواْ
كَذَٰلِكِ
قَالَ
رَبُّكِۖ
إِنَّهُۥ
هُوَ
ٱلۡحَكِيمُ
ٱلۡعَلِيمُ
٣٠
Disseram-lhe: Assim prescreveu teu Senhor, porque Ele é o Prudente, o Sapientíssimo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 51:24 a 51:30

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔

اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔