Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Al-Anfal 8:10

8:10
وما جعله الله الا بشرى ولتطمين به قلوبكم وما النصر الا من عند الله ان الله عزيز حكيم ١٠
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ١٠
وَمَا
جَعَلَهُ
ٱللَّهُ
إِلَّا
بُشۡرَىٰ
وَلِتَطۡمَئِنَّ
بِهِۦ
قُلُوبُكُمۡۚ
وَمَا
ٱلنَّصۡرُ
إِلَّا
مِنۡ
عِندِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَزِيزٌ
حَكِيمٌ
١٠
Deus não vo-lo vez senão como alvíssaras e segurança para os vossos corações. Sabei que o socorro só emana de Deus, porque é Poderoso, Prudentíssimo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 8:9 a 8:14

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔