Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Al-'Ankabut 29:61

29:61
ولين سالتهم من خلق السماوات والارض وسخر الشمس والقمر ليقولن الله فانى يوفكون ٦١
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ٦١
وَلَئِن
سَأَلۡتَهُم
مَّنۡ
خَلَقَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضَ
وَسَخَّرَ
ٱلشَّمۡسَ
وَٱلۡقَمَرَ
لَيَقُولُنَّ
ٱللَّهُۖ
فَأَنَّىٰ
يُؤۡفَكُونَ
٦١
E se lhes perguntas: Quem criou os céus e a terra e submeteu o sol e a lua? Eles respondem: Deus! Então, por que seretraem?
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 29:61 a 29:63
توحید ربویت توحید الوہیت ٭٭

اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، سورج کو مسخر کرنے والا، دن رات کو پے در پے لانے والا، خالق، رازق، موت و حیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔

پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ [صحیح مسلم:1185] ‏

صفحہ نمبر6733