Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Al-A'raf 7:156

7:156
۞ واكتب لنا في هاذه الدنيا حسنة وفي الاخرة انا هدنا اليك قال عذابي اصيب به من اشاء ورحمتي وسعت كل شيء فساكتبها للذين يتقون ويوتون الزكاة والذين هم باياتنا يومنون ١٥٦
۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَـٰتِنَا يُؤْمِنُونَ ١٥٦
۞ وَٱكۡتُبۡ
لَنَا
فِي
هَٰذِهِ
ٱلدُّنۡيَا
حَسَنَةٗ
وَفِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
إِنَّا
هُدۡنَآ
إِلَيۡكَۚ
قَالَ
عَذَابِيٓ
أُصِيبُ
بِهِۦ
مَنۡ
أَشَآءُۖ
وَرَحۡمَتِي
وَسِعَتۡ
كُلَّ
شَيۡءٖۚ
فَسَأَكۡتُبُهَا
لِلَّذِينَ
يَتَّقُونَ
وَيُؤۡتُونَ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَٱلَّذِينَ
هُم
بِـَٔايَٰتِنَا
يُؤۡمِنُونَ
١٥٦
Concede-nos uma graça, tanto neste mundo como no outro, porque a Ti nos voltamos contritos. Disse: Com Meu castigoaçoito quem quero e Minha clemência abrange tudo, e a concederei aos tementes (a Deus) que pagam o zakat, e crêem nosNossos versículos.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۔ اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔

ہم مکمل طور پر تیری طرف لوٹ گئے ہیں ، تیری رحمت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیری جانب سے نصرت کے امیدوار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلیم و رضا اور حکمت ابتلاء کو سمجھتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی درخواست پیش فرمائی اور یہ حتمی اعلان کردیا کہ ہم اللہ کی پناہ گاہ کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی یہ دعا ہر مسلمان کے لیے خضوع و خشوع اور مقام کبریائی کے آداب کے عین مطابق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بندے کو اپنی درخواست کس طرح شروع کرنا چاہیے اور کس طرح اس کا اختتام ہونا چاہیے۔ اور اس کے بعد جواب یہ آتا ہے۔ قال عذابی اصیب بہ من اشاء و رحمتی وسعت کل شیئ۔ جواب میں ارشاد ہوا۔ سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں ، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔

یہ اللہ کی بےقید مشیت کی حکمرانی کا اعلان ہے جس نے اس کائنات کے لیے اپنے اختیار سے ایک قانون وضع کیا ہے اور اسے اپنی مرضی سے جاری کیا ہے اور اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ اسے عدل و انصاف کے ساتھ چلائے گا۔ اور سچائی پر وہ چلے گا۔ کیونکہ عدل اللہ کی صفات میں سے اہم صفت ہے اور اللہ کی مشیت نہایت عدل کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے اسی طرح کرنا چاہا ہے۔ لہذا عذاب اسی شخص پر آتا ہے جو اللہ کے نزدیک مستحق عذاب ہو ، یہی اس کی مشیت کا تقاضا ہے۔ اس کی رحمت نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور رحمت بھی مستحق رحمت کو ملتی ہے۔ یہ بھی اسی کی مشیت ہے ، کسی کو سزا دینے میں یا کسی پر انعامات کی بارش کرنے میں اللہ کی مشیت یونہی بغیر کسی منصوبے اور اتفاق کے نہیں چلتی۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے۔