Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Al-Fajr 89:26

89:26
ولا يوثق وثاقه احد ٢٦
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌۭ ٢٦
وَلَا
يُوثِقُ
وَثَاقَهُۥٓ
أَحَدٞ
٢٦
Nem ninguém acorrentará, como Ele (o fará);
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 89:25 a 89:26

فیومئذ ............................ احد (26:89) پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ، اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔ اللہ قہار وجبار ہے۔ وہ اس دن ایسا عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور اس دن اس کے باندھنے کا انداز بھی ایسا ہوگا جیسا انداز یہاں متصور نہیں ہے۔ اور اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے مناظر قرآن کریم نے بڑی کثرت ، نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ عذاب بھی منفرد ہوگا اور وہ گرفتاری بھی منفرد ہوگی اور ایسی ہوگی کہ اس جہاں میں ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور یہ صورت حال ان صورتوں کے بالمقابل ہے جو اس سورت میں عاد ، ثمود اور فرعون کی پکڑ ، ان کے مظالم ، ان کی جباری اور ان کے شروفساد کی بتائی گئی ہیں کہ وہ لوگوں کو پکڑتے تھے اور ظلم کرتے تھے تو اے نبی اور اے اہل ایمان جو لوگ یہاں مسلمانوں مظالم کرتے رہے ہیں یا کر رہرے ہیں اور ان پر تشدد کرتے رہے ہیں ۔ ان کا حال قیامت میں ایسا ہوگا اور اللہ کے ذاب اور پکڑ اور مخلوق کے عذاب اور پکڑ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا کے لوگ جو عذاب دیتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ بمقابلہ اس کے جس سے یہ لوگ دوچار ہونے والے ہیں۔ لہٰذا یہ لوگ جو چاہیں ، کریں۔ لیکن یادرکھیں کہ ان کا حشر بہت برا ہونے والا ہے جو ہماری تصور سے بھی بہت بڑا ہے۔

ایسے ہولناک مناظر میں ، شدید پکڑ اور شدید عذاب کے مناظر میں ، جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، ایک پکار آتی ہے۔ یہ نفس مطمتنہ کے نام ہے اور ملاء اعلیٰ سے ہے۔