Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: An-Nahl 16:120

16:120
ان ابراهيم كان امة قانتا لله حنيفا ولم يك من المشركين ١٢٠
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةًۭ قَانِتًۭا لِّلَّهِ حَنِيفًۭا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ١٢٠
إِنَّ
إِبۡرَٰهِيمَ
كَانَ
أُمَّةٗ
قَانِتٗا
لِّلَّهِ
حَنِيفٗا
وَلَمۡ
يَكُ
مِنَ
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
١٢٠
Abraão era Imam e monoteísta, consagrado a Deus, e jamais se contou entre os idólatras.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 16:120 a 16:123

حضرت ابراہیم کو قرآن میں خداکے مطلوب انسان کے نمونہ کے طورپر پیش کیا گیاہے۔ وہ انسانوں كے ليے نمونہ كيسے بنے۔ اس لیے کہ وہ ماحول کے بگاڑ کے علی الرغم تنہا ایمان پر قائم ہونے والے انسان تھے۔ وہ اکیلے خداکے لیے کھڑے ہوئے جب کہ اس راہ میں کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ تھا۔

حضرت ابراہیم پوری طرح اپنے آپ کو خدا کی پابندی میں دئے ہوئے تھے۔ انھوںنے عالم گیر مشرکانہ ماحول میں اپنے آپ کو توحید کے لیے یکسو کرلیا تھا۔ وہ تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھتے تھے اور ان کے لیے ان کا دل خدا کے شکر کے جذبہ سے بھرا رہتاتھا۔ حضرت ابراہیم کے اس کمالِ ایمان کی وجہ سے خدا نے ان پر اپنی ہدایت کی راہیں کھول دیں اور ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا تاکہ وہ دنیا والوں کو خدا کے دین سے آگاہ کریں۔

حضرت ابراہیم کو دنیا کا حسنہ (بہتری) دی گئی اور آخرت کی بہتری بھی۔ یہ معلوم ہے کہ دنیا میں حضرت ابراہیم کو نہ عوام کی بھیڑ ملی، نہ اقتدار کا تخت، اور نہ اور کوئی دنیوی رونق کی چیز۔ اس کے باوجود قرآن کی یہ گواہی ہے کہ ان کو خدا کی طرف سے دنیا کی بہتری ملی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی نظر میں دنیا کی بہتری نہ عوامی مقبولیت کا نام ہے اور نہ دولت وحکومت کا۔ بلکہ دنیا کی بہتری خدا کی نظر میں اصلاً وہی چیزیں ہیں جن کو یہاں حضرت ابراہیم کی خصوصیات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔