Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: An-Nazi'at 79:32

79:32
والجبال ارساها ٣٢
وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ٣٢
وَٱلۡجِبَالَ
أَرۡسَىٰهَا
٣٢
E fixou, firmemente, as montanhas,
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 79:30 a 79:32

والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔

دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا آسمانوں سے برستا ہے اور ندیوں کی صورت میں بہتا ہے۔ اور اللہ نے اس کے ذریعہ وہ تمام نباتات اگائے جس سے انسانی خوراک اور حیوانوں کی خوراک نکلی۔ بعض جانور براہ راست اس سے کھاتے ہیں اور بعض بالواسطہ۔

یہ سب انتظام اس وقت ہوا ، جب اللہ نے زمین و آسمان کا موجودہ نظام تعمیر کیا۔ رات اور دن کو پیدا کیا۔ زمین و آسمان کے بارے میں جدید نظریات اس آیت کے مفہوم کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ زمین پر کئی سال گزرے اور اسی طرح گردش لیل ونہار کا نظام جاری رہا اور بعد میں وہ جاکر انسانی زندگی اور زراعت کے قابل بنی اور اس کا چھلکا سخت ہوا اور سکڑ کر پہاڑ نمودار ہوئے۔