Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: As-Saffat 37:69

37:69
انهم الفوا اباءهم ضالين ٦٩
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُمْ ضَآلِّينَ ٦٩
إِنَّهُمۡ
أَلۡفَوۡاْ
ءَابَآءَهُمۡ
ضَآلِّينَ
٦٩
Porque acharam seus pais extraviados.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 37:62 a 37:74

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ، 56:52 )

قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد 21 ، صفحہ 53 ۔

اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔

اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔