Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Fussilat 41:26

41:26
وقال الذين كفروا لا تسمعوا لهاذا القران والغوا فيه لعلكم تغلبون ٢٦
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَا تَسْمَعُوا۟ لِهَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ ٢٦
وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
لَا
تَسۡمَعُواْ
لِهَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانِ
وَٱلۡغَوۡاْ
فِيهِ
لَعَلَّكُمۡ
تَغۡلِبُونَ
٢٦
E os incrédulos dizem: Não deis ouvidos a este Alcorão: outrossim, fazei bulha durante a sua leitura. Quiçá, assimvencereis!
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

یہ وہ بات ہے جو قریش کے کبراء اپنے آپ کو اور جمہور عوام کو کہتے تھے۔ یہ لوگ قرآن کریم کی حیرت انگیز اثر آفرینی سے عاجز آگئے تھے۔ یہ اثر ان پر بھی تھا اور عوام پر بھی تھا۔

لا تسمعوا لھذا القران (41 : 26) ” اس قرآن کو ہرگز نہ سنو “۔ کیونکہ جس طرح وہ کہتے تھے یہ ان پر جادو کرتا ہے۔ ان کی سوچ پر غالب آجاتا ہے اور ان کی زندگی کو خراب کر رہا ہے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ کردیتا ہے ، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی کردیتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن ایسی جدائیاں کردیتا تھا لیکن اس لیے کہ خود اللہ نے ایمان اور کفر کے درمیان جدائی کردی ہے ، ہدایت اور ضلالت کے درمیان جدائی کردی ہے ، جو اسے مانتا تھا وہ خلوص سے مانتا تھا۔ اس لیے اس کے بعد وہ کسی اور تعلق کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ چناچہ اس طرح جدائیاں ہوجاتی تھیں۔

والغوا فیہ لعلکم تغلبون (41 : 26) ” اور اسی میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ یہ پاگلوں کی باتیں ہیں۔ لیکن وہ اس کے سوا کہہ کیا سکتے ہیں وہ تو عاجز آچکے ہیں ، وہ دلیل وبرہان سے بات نہیں کرسکتے کہ انہیں کوئی دلیل و حجت دستیاب ہی نہیں ہے۔ اس لیے پاگل پنے پر اتر آئے ہیں اور جو شخص ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ پھر اس پاگل پنے پر اتر آتا ہے۔

چناچہ انہوں نے رستم و اسفند یار کے قصوں کے ذریعہ قرآن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ابن نصر خصوصاً یہ کام کرتا تھا۔ اس طرح شورو شغب اور سیٹیاں بجانے کے ذریعے قرآن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ابن نصر خصوصاً یہ کام کرتا تھا۔ اس طرح شورو شغب اور سیٹیاں بجانے کے ذریعے بھی وہ یہ کام کرتے تھے اور اپنے سجع اور رجز کے اشعار کے ذریعے بھی کرتے تھے لیکن یہ سب تدبیریں ہوا ہوگئیں اور قرآن غالب رہا۔ کیونکہ اس کے اندر غلبے کا راز تھا۔ وہ حق پر مشتمل تھا۔ اور سچائی ہمیشہ غالب ہوا کرتی ہے۔ اگرچہ اہل باطل لاکھ جتن کریں ان کی اس مکروہ بات کی تردید میں ان کو سخت ڈراوا دیا جاتا ہے۔