Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir: Yusuf 12:97

12:97
قالوا يا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا كنا خاطيين ٩٧
قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔينَ ٩٧
قَالُواْ
يَٰٓأَبَانَا
ٱسۡتَغۡفِرۡ
لَنَا
ذُنُوبَنَآ
إِنَّا
كُنَّا
خَٰطِـِٔينَ
٩٧
Disseram-lhe: Ó pai, implora a Deus que nos perdoe porque somos culpados!
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 12:96 a 12:97

اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔

آیت نمبر 96 تا 97

یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف ہونے دو اور ذرا سکون کا سانس لے لینے دو ۔