Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Fath 48:6

48:6
ويعذب المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات الظانين بالله ظن السوء عليهم دايرة السوء وغضب الله عليهم ولعنهم واعد لهم جهنم وساءت مصيرا ٦
وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتِ وَٱلْمُشْرِكِينَ وَٱلْمُشْرِكَـٰتِ ٱلظَّآنِّينَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًۭا ٦
وَيُعَذِّبَ
ٱلۡمُنَٰفِقِينَ
وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ
وَٱلۡمُشۡرِكِينَ
وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ
ٱلظَّآنِّينَ
بِٱللَّهِ
ظَنَّ
ٱلسَّوۡءِۚ
عَلَيۡهِمۡ
دَآئِرَةُ
ٱلسَّوۡءِۖ
وَغَضِبَ
ٱللَّهُ
عَلَيۡهِمۡ
وَلَعَنَهُمۡ
وَأَعَدَّ
لَهُمۡ
جَهَنَّمَۖ
وَسَآءَتۡ
مَصِيرٗا
٦
И чтобы подвергнуть мучениям лицемеров и лицемерок, многобожников и многобожниц, думающих об Аллахе дурное. Их постигнут превратности судьбы. Аллах разгневался на них, проклял их и приготовил для них Геенну. Как же скверно это место прибытия!
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 48:4 до 48:7

یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔

خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔