Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Ya-Sin 36:18

36:18
قالوا انا تطيرنا بكم لين لم تنتهوا لنرجمنكم وليمسنكم منا عذاب اليم ١٨
قَالُوٓا۟ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا۟ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ١٨
قَالُوٓاْ
إِنَّا
تَطَيَّرۡنَا
بِكُمۡۖ
لَئِن
لَّمۡ
تَنتَهُواْ
لَنَرۡجُمَنَّكُمۡ
وَلَيَمَسَّنَّكُم
مِّنَّا
عَذَابٌ
أَلِيمٞ
١٨
Они сказали: «Воистину, мы увидели в вас дурное предзнаменование. Если вы не прекратите, то мы непременно побьем вас камнями и вас коснутся мучительные страдания от нас».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис

قالوا انا تطیرنا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (36: 18 “۔ تم منحوس لوگ ہو ، تمہاری وجہ سے ہم پر مصبیت آگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہاری دعوت کہ وجہ سے ہماری بستی میں شرو فساد پھیل جائے گا۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم خاموش نہ رہ سکیں گے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ تم اس طرح دعوت دیتے چلے جاؤ۔

لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیم (36: 18) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ یوں باطل نے اپنی برہمی کا اظہار کردیا اور ہدایت دینے والوں کو دھمکی دے دی اور پر امن کلمہ حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور فکر و خیال اور انداز گفتگو میں بدمستی کا اظہار کیا۔ لیکن رسولوں کا فیضہ تو یہ ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں وہ اپنی راہ پر چلتے رہیں۔ اس لیے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔