Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Baqarah 2:226

2:226
للذين يولون من نسايهم تربص اربعة اشهر فان فاءوا فان الله غفور رحيم ٢٢٦
لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍۢ ۖ فَإِن فَآءُو فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٢٢٦
لِّلَّذِينَ
يُؤۡلُونَ
مِن
نِّسَآئِهِمۡ
تَرَبُّصُ
أَرۡبَعَةِ
أَشۡهُرٖۖ
فَإِن
فَآءُو
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
غَفُورٞ
رَّحِيمٞ
٢٢٦
Те, которые поклялись не вступать в половую близость со своими женами, должны выжидать четыре месяца. И если они передумают, то ведь Аллах - Прощающий, Милосердный.
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 2:224 до 2:228

ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔

خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔