Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Kahf 18:39

18:39
ولولا اذ دخلت جنتك قلت ما شاء الله لا قوة الا بالله ان ترن انا اقل منك مالا وولدا ٣٩
وَلَوْلَآ إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالًۭا وَوَلَدًۭا ٣٩
وَلَوۡلَآ
إِذۡ
دَخَلۡتَ
جَنَّتَكَ
قُلۡتَ
مَا
شَآءَ
ٱللَّهُ
لَا
قُوَّةَ
إِلَّا
بِٱللَّهِۚ
إِن
تَرَنِ
أَنَا۠
أَقَلَّ
مِنكَ
مَالٗا
وَوَلَدٗا
٣٩
Почему, войдя в свой сад, ты не сказал: «Так пожелал Аллах! Нет мощи, кроме как от Аллаха!» Ты считаешь, что у меня меньше богатства и детей, чем у тебя,
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 18:36 до 18:41

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔