Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: At-Tawbah 9:43

9:43
عفا الله عنك لم اذنت لهم حتى يتبين لك الذين صدقوا وتعلم الكاذبين ٤٣
عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَتَعْلَمَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ٤٣
عَفَا
ٱللَّهُ
عَنكَ
لِمَ
أَذِنتَ
لَهُمۡ
حَتَّىٰ
يَتَبَيَّنَ
لَكَ
ٱلَّذِينَ
صَدَقُواْ
وَتَعۡلَمَ
ٱلۡكَٰذِبِينَ
٤٣
Да простит тебя Аллах! Почему ты разрешил им остаться дома, пока тебе не стало ясно, кто говорит правду, а кто является лжецом?
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис

اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر اس قدر مہربان ہے کہ عتاب سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرماتا ہے۔ جب ان لوگوں نے جھوٹے عذرات پیش کیے تو رسول اللہ نے ان کے عذرات قبول کرلیے اور ایسے لوگوں نے ان عذرات کی اوٹ میں اپنے آپ کو چھپایا۔ حجور نے ان لوگوں کے عذرات کو اس لیے قبول کرلیا تھا کہ اس وقت سچے اور جھوٹے عذرات کی تحقیقات کا موعہ نہ تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ بعض لوگ لشکر سے بلا کسی عذر کے پیچھے رہ جائیں اور اس طرح ان کی حقیقت کھل جائے اور ان کے لیے اذن رسول کا بہانہ بھی نہ رہے۔