Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Ash-Shu'ara 26:184

26:184
واتقوا الذي خلقكم والجبلة الاولين ١٨٤
وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلْجِبِلَّةَ ٱلْأَوَّلِينَ ١٨٤
وَٱتَّقُواْ
ٱلَّذِي
خَلَقَكُمۡ
وَٱلۡجِبِلَّةَ
ٱلۡأَوَّلِينَ
١٨٤
Бойтесь Того, Кто сотворил вас и первые поколения».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 26:176 до 26:184

’’ایکہ‘‘ کے لفظی معنی جنگل کے ہیں۔یہ تبوک کا پرانا نام ہے۔ قوم شعیب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھی۔ وہ جس علاقہ میں آباد ہوئی، اس کا مرکزی شہر تبوک تھا۔ اسی ليے قرآن میں اس کو اصحاب ایکہ کہا گیا ہے۔

تمام اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کی جڑ ’’میزان‘‘ میں فرق کرناہے۔ صحیح میزان (ترازو) یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو وہ دے جو از روئے حق انھیں دیناچاہيے۔ اور اپنے ليے وہ لے جو از روئے حق اسے لینا چاہيے۔ یہی خدائی میزان ہے۔ جب اس میزان میں فرق کیا جاتا ہے تو اسی وقت اجتماعی زندگی میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ تاہم اس میزان پر قائم ہونے کا راز اللہ کا خوف ہے۔ اگر اللہ کا ڈر دل سے نکل جائے تو کوئی چیزآدمی کو میزان پر قائم نہیں رکھ سکتی۔

خداکی طرف سے جتنے رسول آئے سب نے اپنی مخاطب قوموں سے کہا کہ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ(میں تمھارے ليے ایک معتبر رسول ہوں)۔ اس سے اندازه ہوتاہے کہ داعی کے اندر اعتباریت (credibility)کی صفت لازمی طورپر موجود ہونا چاہيے۔ اسی اعتباریت کا ایک پہلو یہ ہے کہ داعی اپنی مدعو قوم سے معاشی اور مادی جھگڑا نہ چھیڑے تاکہ اس کی بے غرض مقصدیت مشتبہ نہ ہو۔ یہ اعتباریت اتنی اہم ہے کہ اس کو ہر حال میں حاصل کرنا ضروری ہے۔ خواہ اس کی خاطر داعی کو اپنے مادی حقوق سے یک طرفہ طورپر دست بردار ہونا پڑے۔