Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Ash-Shu'ara 26:225

26:225
الم تر انهم في كل واد يهيمون ٢٢٥
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍۢ يَهِيمُونَ ٢٢٥
أَلَمۡ
تَرَ
أَنَّهُمۡ
فِي
كُلِّ
وَادٖ
يَهِيمُونَ
٢٢٥
Разве ты не видишь, что они блуждают по всем долинам (слагают стихи на любые темы)
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 26:221 до 26:227

پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے کی بنا پر ہے،نہ کہ پیغمبر ہونے کی بنا پر۔ اسی طرح وہ قرآن کو شاعرکا کلام بتاتے تھے۔ فرمایا کہ اس بات کی تردید کے لیے یہی کافی ہے کہ پیغمبر کا اور کاہنوں اور شاعروں کا مقابلہ کرکے دیکھا جائے۔ دونوں کی زندگی میں اتنا زیادہ فرق ملے گا کہ کوئی سنجیدہ آدمی ہر گز ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکرسکتا۔

شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے، نہ کہ حقائق وواقعات پر۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر لوگ ہمیشہ خیالات کی دنیا میں پرواز کرتے ہیں۔ وہ کبھی ایک قسم کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی دوسرے قسم کی۔ اس کے برعکس، پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیاں قول وعمل کی یکسانیت کی مثالیں ہیں۔ اللہ کی گہری معرفت نے ان کو اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیا ہے۔ ان کی احتیاط اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ اگر کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔