Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-An'am 6:139

6:139
وقالوا ما في بطون هاذه الانعام خالصة لذكورنا ومحرم على ازواجنا وان يكن ميتة فهم فيه شركاء سيجزيهم وصفهم انه حكيم عليم ١٣٩
وَقَالُوا۟ مَا فِى بُطُونِ هَـٰذِهِ ٱلْأَنْعَـٰمِ خَالِصَةٌۭ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةًۭ فَهُمْ فِيهِ شُرَكَآءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ ١٣٩
وَقَالُواْ
مَا
فِي
بُطُونِ
هَٰذِهِ
ٱلۡأَنۡعَٰمِ
خَالِصَةٞ
لِّذُكُورِنَا
وَمُحَرَّمٌ
عَلَىٰٓ
أَزۡوَٰجِنَاۖ
وَإِن
يَكُن
مَّيۡتَةٗ
فَهُمۡ
فِيهِ
شُرَكَآءُۚ
سَيَجۡزِيهِمۡ
وَصۡفَهُمۡۚ
إِنَّهُۥ
حَكِيمٌ
عَلِيمٞ
١٣٩
Они говорят: «То, что находится в утробах этой скотины, дозволено нашим мужчинам и запрещено нашим женам». Если же он рождается мертвым, то все они получают право на него. Аллах воздаст им за то, что они приписывали, ведь Он - Мудрый, Знающий.
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
نذر نیاز ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کر دیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا“ -

شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مر جاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔‏“ «وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:116-117] ‏ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لیے ان سے دور کر دی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کر لیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کر دیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بے حکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔

صفحہ نمبر2777