Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: An-Nahl 16:50

16:50
يخافون ربهم من فوقهم ويفعلون ما يومرون ۩ ٥٠
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩ ٥٠
يَخَافُونَ
رَبَّهُم
مِّن
فَوۡقِهِمۡ
وَيَفۡعَلُونَ
مَا
يُؤۡمَرُونَ۩
٥٠
Ata i frikësohen Zotit të tyre lart mbi ta dhe bëjnë atë, që u urdhërohet.
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 16:48 deri në 16:50

انسان ایک ایسی دنیا میں سرکشی کرتاہے، جس میں اس کے چاروں طرف اس کو تابعداری کا سبق دیا جارہا ہے۔ مثال کے طورپر مادی اجسام کے سائے۔ ایک چیز جو کھڑی ہوئی ہو، اس کا سایہ زمین پر پڑ جاتا ہے۔ اس طرح وہ سجدہ کو ممثل کررہا ہے۔ وہ تمثیلی انداز میں بتاتاہے کہ انسان کو کس طرح اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے۔

فرشتے اگر چہ انسان کو نظر نہیں آتے۔ مگر عظیم کائنات کا اس قدر منظم ہو کر چلنا ثابت کرتاہے کہ اس کو چلانے کے لیے خدا نے اپنے جو کارندے مقرر کيے ہیں وہ انتہائی طاقت ور ہیں۔ یہ فرشتے غیر معمولی طاقت ور ہونے کے باوجود خدا کے حد درجہ مطیع ہیں۔ اگر وہ حد درجہ مطیع نہ ہوں تو کائنات کا نظام اس درجہ صحت اور یکسانیت کے ساتھ مسلسل چلتا ہوا نظر نہ آئے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت میں دے دے، وہ مکمل طورپر اس کا فرماں بردار بن جائے۔