Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: Al-Isra 17:63

17:63
قال اذهب فمن تبعك منهم فان جهنم جزاوكم جزاء موفورا ٦٣
قَالَ ٱذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءًۭ مَّوْفُورًۭا ٦٣
قَالَ
ٱذۡهَبۡ
فَمَن
تَبِعَكَ
مِنۡهُمۡ
فَإِنَّ
جَهَنَّمَ
جَزَآؤُكُمۡ
جَزَآءٗ
مَّوۡفُورٗا
٦٣
(Allahu) tha: “Ik! Kushdo prej tyre që të pason ty, do të ketë Xhehenemin si shpërblim – një shpërblim i plotë.
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 17:63 deri në 17:65

’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔

شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔

آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔