Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: Al-Isra 17:72

17:72
ومن كان في هاذه اعمى فهو في الاخرة اعمى واضل سبيلا ٧٢
وَمَن كَانَ فِى هَـٰذِهِۦٓ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًۭا ٧٢
وَمَن
كَانَ
فِي
هَٰذِهِۦٓ
أَعۡمَىٰ
فَهُوَ
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
أَعۡمَىٰ
وَأَضَلُّ
سَبِيلٗا
٧٢
Ai, që në këtë botë ka qenë i verbër, do të jetë i verbër edhe në botën tjetër dhe më i humbur nga rruga e drejtë.
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 17:71 deri në 17:72

دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔

اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔

آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔