Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: Ar-Ra'd 13:17

13:17
انزل من السماء ماء فسالت اودية بقدرها فاحتمل السيل زبدا رابيا ومما يوقدون عليه في النار ابتغاء حلية او متاع زبد مثله كذالك يضرب الله الحق والباطل فاما الزبد فيذهب جفاء واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض كذالك يضرب الله الامثال ١٧
أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدًۭا رَّابِيًۭا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَـٰعٍۢ زَبَدٌۭ مِّثْلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَـٰطِلَ ۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءًۭ ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ ١٧
أَنزَلَ
مِنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَآءٗ
فَسَالَتۡ
أَوۡدِيَةُۢ
بِقَدَرِهَا
فَٱحۡتَمَلَ
ٱلسَّيۡلُ
زَبَدٗا
رَّابِيٗاۖ
وَمِمَّا
يُوقِدُونَ
عَلَيۡهِ
فِي
ٱلنَّارِ
ٱبۡتِغَآءَ
حِلۡيَةٍ
أَوۡ
مَتَٰعٖ
زَبَدٞ
مِّثۡلُهُۥۚ
كَذَٰلِكَ
يَضۡرِبُ
ٱللَّهُ
ٱلۡحَقَّ
وَٱلۡبَٰطِلَۚ
فَأَمَّا
ٱلزَّبَدُ
فَيَذۡهَبُ
جُفَآءٗۖ
وَأَمَّا
مَا
يَنفَعُ
ٱلنَّاسَ
فَيَمۡكُثُ
فِي
ٱلۡأَرۡضِۚ
كَذَٰلِكَ
يَضۡرِبُ
ٱللَّهُ
ٱلۡأَمۡثَالَ
١٧
Ai e zbret shiun nga qielli, prandaj rrjedhin lumenjtë me masë dhe rrjedha bart mbeturinat mbi sipërfaqen e ujit. Edhe zgjyra, kur e shkrijnë njerëzit në zjarr që të bëjnë stoli ose vegla, është mbeturinë, si ajo. Kështu, Allahu jep shembullin e së vërtetës dhe të së pavërtetës: Mbeturinat hidhen, ndërsa ajo që u shërben njerëzve mbetet në tokë. Kështu, Allahu i shpjegon shembujt.
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith

خدا نے اپنی دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہاں مادی واقعات اخلاقی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو انسان سے شعور کی سطح پر مطلوب ہے، انھیں کو بقیہ دنیا میں مادی سطح پر دکھایا جارہا ہے ۔

یہاں قرآن میں فطرت کے دو واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے آگ پر تپاتے ہیں تو اس کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آجاتاہے۔ مگر جلد ہی بعد یہ ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیںفضا میں اڑ جاتاہے۔ اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر محفوظ رہ جاتے ہیںجو انسان کے لیے مفید ہے۔

یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعے خدا تمثیل کے روپ میں دکھارہا ہے کہ اس نے زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے لیے کیااصول مقرر فرمایاہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس شخص یا قوم کو جگہ ملتی ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے اس کے لیے خدا کی بنائی ہوئی دنیامیں کوئی جگہ نہیں۔