Ai u tha: “Vallë, ju adhuroni ato që i keni gdhendur vetë,
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
قال اتعبدون۔۔۔۔۔ وما تعملون (95 – 96) “۔ یہ ایک فطری استدلال تھا ، حضرت ابراہیم نے یبانگ دبل ان کے سامنے رکھ دیا کہ تم اپنی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ، معبود حق تو وہ ہوسکتا ہے جو سب چیزوں کا بنانے والا ہو نہ کہ اسے کسی سنگ تراش نے تراشا ہو۔