Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:24

26:24
قال رب السماوات والارض وما بينهما ان كنتم موقنين ٢٤
قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ٢٤
قَالَ
رَبُّ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَمَا
بَيۡنَهُمَآۖ
إِن
كُنتُم
مُّوقِنِينَ
٢٤
(Musai) u përgjigj: “Është Zoti i qiejve, i Tokës dhe i gjithçkaje që gjendet midis tyre, nëse besoni me bindje”.
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith

قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (24)

یہ جواب اس کے تجاہل عارفانہ کے انداز کے سوال کا شافی جواب ہے یعنی اے فرعون رب العالمین اس پوری کائنات مشہود و غیر مشہود کا رب ہے ۔ اور اس کی بادشاہت اور اقتدار تک تمہاری بادشاہت نہیں پہنچ سکتی۔ نہ اللہ کے علم تک تمہارا علم پہنچ سکتا ع ہے۔ فرعون کا دعویٰ تو صرف یہ تھا کہ وہ مصری قوم کا الہ اور حاکم ہے ، صرف وادی نیل کا فرمان روا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں یہ کیا ربوبیت ہے۔ اس قدر حقیر جس طرح اس عظیم کائنات کے اندر ایک ذرہ ہوتا ہے۔

اس جواب کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) اس کی توجہ اس عظیم کائنات کی طرف مبذول کراتے ہیں اور وہ خود جس ربوبیت کا دعویدار تھا اس کو حقیر اور باطل قرار دیتے ہیں اور اسے دعوت دیتے ہیں کہ اس کائنات میں تدبر کر کے ذرا اپنے ذہن کو کھول دیں اور رب العالمین کی حاکمت کے وسیع دائرے کو دیکھیں اور اس کے بعد مختصر تبصرہ بھی فرما دیتے ہیں کہ تدبر تم تب کرسکتے ہو جب

ان کنتم مومنین (26 : 23) ” اگر تم یقین کرنا چاہتے ہو۔ “ اگر تم یقین کرنا چاہو تو پھر رب العالمین ہی یقین کرنے کے لائق ہے۔

اب فرعون اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے پوچھتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔