Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:26

26:26
قال ربكم ورب ابايكم الاولين ٢٦
قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ٢٦
قَالَ
رَبُّكُمۡ
وَرَبُّ
ءَابَآئِكُمُ
ٱلۡأَوَّلِينَ
٢٦
Ai tha: “Zoti juaj dhe Zoti i të parëve tuaj.”
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith

قال ربکم و رب ابآئکم الاولین (26)

یہ بات فرعون نے بہت زیادہ محسوس کی کیونکہ اس کی زد فرعون کے دعوئوں اور اس کے طرز عمل پر پڑتی تھی۔ اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ وہ رب العالمین تو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے آباء کا بھی رب ہے اور اے فرعون تم بھی تو بندگان رب العالمین میں سے ایک حقیر بندے ہو اور یہ کہ تم کسی کے رب نہیں ہو۔ جیسا کہ تم رب مصر ہونے کے مدعی ہو ، لہٰذا تمہارا دعوائے الوہیت و ربوبیت اور حاکمیت ہی سرے سے غلط ہے۔ اللہ ہی رب العالمین ہے ، تھا اور رہے گا۔

یہ فرعونی نظریات پر سخت تباہ کن بمباری تھی اور اس سے خود اس کے حاشیہ نشینوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکا لہٰذا اس نے حضرت موسیٰ کے بارے میں وہی الزام دہرایا جو ہمیشہ مستکبرین دہراتے ہیں۔