Identifikohu
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën

Tefsir: At-Taghabun 64:5

64:5
الم ياتكم نبا الذين كفروا من قبل فذاقوا وبال امرهم ولهم عذاب اليم ٥
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ فَذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٥
أَلَمۡ
يَأۡتِكُمۡ
نَبَؤُاْ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
مِن
قَبۡلُ
فَذَاقُواْ
وَبَالَ
أَمۡرِهِمۡ
وَلَهُمۡ
عَذَابٌ
أَلِيمٞ
٥
A nuk keni dëgjuar për ata që kanë mohuar më parë dhe i kanë shijuar pasojat e veprave të tyre? Për ata do të ketë dënim të dhembshëm,
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith

الم بالکم ............................ حمید (46 : 6) (46 : 5۔ 6) ” کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ اس انجام کے مستحق وہ اس لئے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے ، مگر انہوں نے کہا ” کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ “ اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا ، تب اللہ بھی ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔ “

یہ خطاب تمام مشرکین کو ہے کہ اس سے قبل جن لوگوں نے تکذیب کی ان کا جو انجام ہوا ، اس پر ذرا غور کرلو۔ استفہام تو کبھی اس لئے ہوتا ہے کو اقوام سابقہ کے حالات ان مشرکین کو بتا دیئے جانے کے بعد بھی یہ کفر کرتے ہیں تو ان کا یہ رویہ قابل مذمت ہے اور کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ دیکھو اور اس طرح توجہ کرو کہ جو کچھ تم کررہے ہو اس کا انجام یوں بھی ہوتا ہے (یعنی مذمت اور توجہ مبذول کرانے کے لئے) یہ لوگ تو امم سابقہ کے احوال سے واقف تھے ، قصے ان کے ہاں مشہور تھے۔ مثلاً عاد ، ثمود اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں تو عرب واقف تھے۔ ان کھنڈرات پر سے وہ گزرتے تھے جب وہ شمال اور جنوب کے سفروں پر جاتے تھے۔

دنیا میں ان کا جو انجام ہوا تو ہو اور تو زبان زد عام ہے ، قرآن اس پر یہ اضافہ کرتا ہے۔

ولھم عذاب الیم (46 : 5) ” اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے “۔ یہ آخرت کا عذاب ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے۔