Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
26:117
قال رب ان قومي كذبون ١١٧
قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِ ١١٧
قَالَ
رَبِّ
إِنَّ
قَوۡمِي
كَذَّبُونِ
١١٧
Noah prayed, “My Lord! My people have truly rejected me.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 26:116 to 26:122
تذکرہ نوح علیہ السلام ٭٭

لمبی مدت تک جناب نوح علیہ السلام ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ علیہ السلام اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ ”اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔‏“

آپ علیہ السلام کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ ”اے اللہ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔‏“

پس جناب باری عزوجل نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہو جانے کا حکم دے دیا۔ ” یقیناً یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے “۔

صفحہ نمبر6247