Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Al-Aaraf 7:167

7:167
واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم الى يوم القيامة من يسومهم سوء العذاب ان ربك لسريع العقاب وانه لغفور رحيم ١٦٧
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١٦٧
وَإِذۡ
تَأَذَّنَ
رَبُّكَ
لَيَبۡعَثَنَّ
عَلَيۡهِمۡ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
مَن
يَسُومُهُمۡ
سُوٓءَ
ٱلۡعَذَابِۗ
إِنَّ
رَبَّكَ
لَسَرِيعُ
ٱلۡعِقَابِ
وَإِنَّهُۥ
لَغَفُورٞ
رَّحِيمٞ
١٦٧
Na pale alipo tangaza Mola wako Mlezi kwamba hapana shaka atawaletea watu ambao watawaadhibu kwa adhabu mbaya mpaka Siku ya Kiyama. Hakika Mola wako Mlezi ni Mwepesi wa kuadhibu, na bila ya shaka ni Mwenye maghfira, na Mwenye kurehemu. 1
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 7:167 hadi 7:168

ان آیات میں یہود کے ليے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الیٰ یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔

کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی ہو۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچه آخرت کے وعدے کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات ديے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کو منصبِ فضیلت سے ہٹا دیا۔ ان کے ليے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کامزہ چکھتے رہیں گے اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے۔ ان پر ’’حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے ليے ایک قسم کا عتاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔

ان آیات میں یہود کے ليے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلّط کی جائیں گی جو ان کو ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بنو كدنصر اورکبھی ٹائٹس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں ديے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلا لیا تو ہٹلر نے انھیں تباہ وبرباد کرڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طورپر ہلاک کی جانے والی ہے۔

دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ’’تقطیع‘‘ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کردینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار بار ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے ليے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے ليے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیاگیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار ومشرکین نے ان پر غلبہ پالیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹناچاہيے۔ کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الٰہی کی زد میں آگئے ہیں۔