Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: An-Nur 24:5

24:5
الا الذين تابوا من بعد ذالك واصلحوا فان الله غفور رحيم ٥
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٥
إِلَّا
ٱلَّذِينَ
تَابُواْ
مِنۢ
بَعۡدِ
ذَٰلِكَ
وَأَصۡلَحُواْ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
غَفُورٞ
رَّحِيمٞ
٥
Isipo kuwa wale walio tubu baada ya hayo na wakatengenea; kwani bila ya shaka Mwenyezi Mungu ni Msamehevu, Mwenye kurehemu. 1
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 24:4 hadi 24:5
تہمت لگانے والے مجرم ٭٭

جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔

اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5850