Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Al-Aaraf 7:30

7:30
فريقا هدى وفريقا حق عليهم الضلالة انهم اتخذوا الشياطين اولياء من دون الله ويحسبون انهم مهتدون ٣٠
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَـٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَـٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ٣٠
فَرِيقًا
هَدَىٰ
وَفَرِيقًا
حَقَّ
عَلَيۡهِمُ
ٱلضَّلَٰلَةُۚ
إِنَّهُمُ
ٱتَّخَذُواْ
ٱلشَّيَٰطِينَ
أَوۡلِيَآءَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
وَيَحۡسَبُونَ
أَنَّهُم
مُّهۡتَدُونَ
٣٠
Hali ya kuwa kundi moja amelihidi, na kundi jengine limethibitikiwa na upotofu. Kwa hakika hao waliwafanya mashet'ani kuwa ndio marafiki walinzi badala ya Mwenyezi Mungu, na wanadhani kuwa wao wameongoka. 1
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 7:29 hadi 7:30

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “

یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “

تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔

جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔

اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔