Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Ash-Shuaraa 26:16

26:16
فاتيا فرعون فقولا انا رسول رب العالمين ١٦
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٦
فَأۡتِيَا
فِرۡعَوۡنَ
فَقُولَآ
إِنَّا
رَسُولُ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٦
Basi mfikieni Firauni na mwambieni: Hakika sisi ni Mitume wa Mola Mlezi wa walimwengu wote. 1
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 26:15 hadi 26:19

خدا جس شخص کو اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرے وہ ہر اعتبار سے خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اسی کے ساتھ اس کے لیے مزید اہتمام یہ کیا جاتاہے کہ اس کو خصوصی نشانیاں دی جاتی ہیں جو اس بات کی صریح علامت ہوتی ہیں کہ اس کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ اس کے باوجودوہ اعتراف نہیں کرتا۔

حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کے سلسلہ میں فرعون سے جو مطالبہ کیا اس کا تفصیلی مطلب کیا تھا، اس کے بارے میں قرآن میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ تورات کا بیان اس سلسلہ میں حسب ذیل ہے

(موسیٰ نے فرعون سے کہا) اب تو ہم کو تین دن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے ليے قربانی کریں (خروج، 3:18 )۔میرےلوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے ليے عید کریں (خروج، 5:1 )۔ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر کہا کہ تم جاؤ اور اپنے خدا کے ليے اسی ملک میں قربانی کرو۔ موسیٰ نے کہاایسا کرنا مناسب نہیں ۔کیوں کہ ہم خداوند اپنے خدا کے ليے اس چیز کی قربانی کریںگے، جس سے مصری نفرت رکھتے ہیں۔ سو اگر ہم مصریوں کی آنکھوں کے آگے اس چیز کی قربانی کریں جس سے وہ نفرت رکھتے ہیں تو کیا وہ ہم کو سنگسار نہ کرڈالیںگے۔ پس ہم تین دن کی راہ بیابان میں جاکر خداوند اپنے خدا کے ليے جیسا وہ ہم کو حکم دے گا قربانی کریں گے۔(خروج، 8:25-27 )

بائبل کے بیان سے بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ سفر ہجرت کے ليے نہیں بلکہ تربیت کے ليے تھا۔ مصر میں گائے مقدس مانی جاتی تھی۔ صدیوں کے عمل سے بنی اسرائیل بھی اس سے متاثر ہوگئے تھے۔ اب حضرت موسیٰ نے چاہا کہ بنی اسرائیل کو کچھ دنوں کے ليے مصر کے مشرکانہ ماحول سے باہر لے جائیں اور ان کو آزاد فضا میں رکھ کر ان کی تربیت کریں۔