Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: At-Tawba 9:54

9:54
وما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله وبرسوله ولا ياتون الصلاة الا وهم كسالى ولا ينفقون الا وهم كارهون ٥٤
وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَـٰتُهُمْ إِلَّآ أَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأْتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَـٰرِهُونَ ٥٤
وَمَا
مَنَعَهُمۡ
أَن
تُقۡبَلَ
مِنۡهُمۡ
نَفَقَٰتُهُمۡ
إِلَّآ
أَنَّهُمۡ
كَفَرُواْ
بِٱللَّهِ
وَبِرَسُولِهِۦ
وَلَا
يَأۡتُونَ
ٱلصَّلَوٰةَ
إِلَّا
وَهُمۡ
كُسَالَىٰ
وَلَا
يُنفِقُونَ
إِلَّا
وَهُمۡ
كَٰرِهُونَ
٥٤
Na hawakuzuiliwa kukubaliwa michango yao ila kwa kuwa walimkataa Mwenyezi Mungu na Mtume wake, wala hawaji kwenye Sala ila kwa uvivu, wala hawatoi michango ila nao wamechukia. 1
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 9:52 hadi 9:54
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭

مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔

اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ [صحیح بخاری:43] ‏ اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:1410] ‏ متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر3492