Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Luqman 31:25

31:25
ولين سالتهم من خلق السماوات والارض ليقولن الله قل الحمد لله بل اكثرهم لا يعلمون ٢٥
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٢٥
وَلَئِن
سَأَلۡتَهُم
مَّنۡ
خَلَقَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضَ
لَيَقُولُنَّ
ٱللَّهُۚ
قُلِ
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِۚ
بَلۡ
أَكۡثَرُهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٢٥
And if you ask them who created the heavens and the earth, they will definitely say, “Allah!” Say, “Praise be to Allah!” In fact, most of them do not know.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 31:25 to 31:26
حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے “۔

بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔

صفحہ نمبر6882