Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Yunus 10:102

10:102
فهل ينتظرون الا مثل ايام الذين خلوا من قبلهم قل فانتظروا اني معكم من المنتظرين ١٠٢
فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِهِمْ ۚ قُلْ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ١٠٢
فَهَلۡ
يَنتَظِرُونَ
إِلَّا
مِثۡلَ
أَيَّامِ
ٱلَّذِينَ
خَلَوۡاْ
مِن
قَبۡلِهِمۡۚ
قُلۡ
فَٱنتَظِرُوٓاْ
إِنِّي
مَعَكُم
مِّنَ
ٱلۡمُنتَظِرِينَ
١٠٢
Are they waiting for ˹anything˺ except the same torments that befell those before them? Say, “Keep waiting then! I too am waiting with you.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 10:101 to 10:103

ہمارے چاروں طرف جو کائنات ہے اس میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں خدا کا منصوبہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ڈراوے (آندھی اور بھونچال) جیسے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدااور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتاہے، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یہ نہ مانے۔ چنانچہ آدمی یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کرکے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتاہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔

جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کررہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لیے سامنے آجائے۔ مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔