Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Yunus 10:66

10:66
الا ان لله من في السماوات ومن في الارض وما يتبع الذين يدعون من دون الله شركاء ان يتبعون الا الظن وان هم الا يخرصون ٦٦
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ٦٦
أَلَآ
إِنَّ
لِلَّهِ
مَن
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَمَن
فِي
ٱلۡأَرۡضِۗ
وَمَا
يَتَّبِعُ
ٱلَّذِينَ
يَدۡعُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
شُرَكَآءَۚ
إِن
يَتَّبِعُونَ
إِلَّا
ٱلظَّنَّ
وَإِنۡ
هُمۡ
إِلَّا
يَخۡرُصُونَ
٦٦
Jueni kuwa ni vya Mwenyezi Mungu vyote viliomo mbinguni na ardhinii.Na wala hawawafuati hao wanao waomba badala ya Mwenyezi Mungu kuwa ni washirika wake. Wao hawafuati ila dhana tu, na hawasemi ila uwongo. 1
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 10:66 hadi 10:67

زمین وآسمان کے پیچھے کون ہے جو اس کو سنبھالے ہوئے ہے ا ور اس کو چلا رہا ہے۔ یہ سوال ہر زمانہ میں انسان کی تلاش کا مرکزی نکتہ رہاہے۔ مگر اس سوال کا صحیح جواب پانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی ماوراء طبیعیات دنیا تک دیکھ سکے اور ماوراء طبیعیات تک دیکھنے والی آنکھ کسی کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ جواب جو وہ بطور خود قائم کرتاہے وہ محض قیاس وگمان کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر۔

اس دنیا میں حقیقی علم کی بنیاد پر بولنے والے صرف وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتاہے۔یہ وہ مخصوص لوگ ہیں جن کا ربط عالم بالا سے براہِ راست قائم ہوتاہے۔ خدا خود انھیں اپنی طرف سے حقیقت کی خبر دیتاہے۔ اس لیے اس دنیا میں پیغمبر کا علم ہی واحد علم ہے جس پر یقینی طور پر بھروسہ کیا جاسکے۔

پیغمبروں کے دعوے کی صداقت کو چانچنے کے لیے اگرچہ ہمارے پاس کوئی براہِ راست ذریعہ نہیں ہے۔ تاہم ایک بالواسطہ ذریعہ یقینی طورپر موجود ہے۔ اور وہ کائنات کی آیات (نشانیاں) ہیں۔ یہ نشانیاں پیغمبروں کے بیان کردہ معنوی حقائق کی عملی تصدیق کررہی ہیں۔

مثال کے طورپر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زمین پر رات کے بعد دن آتا ہے اور دن کے بعدرات آتی ہے۔ یہ گردش ایک انتہائی محکم نظام کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔ جو ریاضیاتی صحت کی حد تک منظم ہے۔ مزید یہ کہ یہ گردش حیرت ناک حد تک ہماری زندگی کے موافق ہے۔ اس کے پیچھے واضح طور پر ایک بامقصد منصوبہ کام کرتا ہوا نظر آتاہے۔ یہ صورت حال یقینی طور پر ایک ایسے قادر مطلق اور رحمان ورحیم کے وجود کا ثبوت ہے جس کی خبر پیغمبر دیتے ہیں۔

جو لوگ اپنے خیال کے مطابق ’’شریکوں‘‘ کی پیروی کررہے ہیں، وہ شرکاء خواہ قدیم الٰہیاتی شرکاء ہوں یا جدید مادی شرکاء، وہ کسی واقعی حقیقت کی پیروی نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے قیاس و گمان کی پیروی کررہے ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والی حقیقت کی تصدیق ساری کائنات کررہی ہے مگر ’’مشرکین‘‘ جس چیز کے مدعی ہیں اس کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں۔