Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Taha 20:115

20:115
ولقد عهدنا الى ادم من قبل فنسي ولم نجد له عزما ١١٥
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا ١١٥
وَلَقَدۡ
عَهِدۡنَآ
إِلَىٰٓ
ءَادَمَ
مِن
قَبۡلُ
فَنَسِيَ
وَلَمۡ
نَجِدۡ
لَهُۥ
عَزۡمٗا
١١٥
And indeed, We once made a covenant with Adam, but he forgot, and ˹so˺ We did not find determination in him.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 20:115 to 20:117

خدا کے حکم پر قائم رہنے کے لیے مضبوط ارادہ انتہائی طورپر ضروری ہے۔ آدمی اگر غیر متعلق چیزوں سے متاثر ہو جایا کرے تو وہ یقیناً خدا کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ خدا کے راستہ پر قائم رہنے کے لیے صرف خداکے حکم کو جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ عزم بھی لازمی طورپر ضروری ہے کہ آدمی حکم خداوندی کے خلاف باتوں سے مزاحمت کرے اور ان کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔

خدا نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتے فوراً سجدہ میں گر گئے۔ مگر شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرشتوں نے اس معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھا۔اس کے برعکس، ابلیس نے اس کو انسان کا معاملہ سمجھا ۔جب معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھا جائے تو آدمی کے لیے ایک ہی ممکن صورت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ اس کی اطاعت کرے۔ مگر جب معاملہ کو انسان کا معاملہ سمجھ لیا جائے تو آدمی یہ کرے گا کہ وہ سامنے کے انسان کو دیکھے گا۔ اگر وہ اس سے طاقت ور ہے تو وہ جھک جائے گا۔ اور اگر وہ اس سے طاقت ور نہیں ہے تو وہ جھکنے سے انکار کردے گا، خواہ حق کا واضح تقاضا یہی ہو کہ وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔