Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Taha 20:129

20:129
ولولا كلمة سبقت من ربك لكان لزاما واجل مسمى ١٢٩
وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًۭا وَأَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى ١٢٩
وَلَوۡلَا
كَلِمَةٞ
سَبَقَتۡ
مِن
رَّبِّكَ
لَكَانَ
لِزَامٗا
وَأَجَلٞ
مُّسَمّٗى
١٢٩
Had it not been for a prior decree from your Lord1 ˹O Prophet˺ and a term already set, their ˹instant˺ doom would have been inevitable.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 20:128 to 20:130

کسی قوم کو زمین پرعروج حاصل ہو اور پھر وہ ہلاک یا مغلوب کر دی جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے بندگی کی حد سے تجاوز کیا۔ ہر تباہ شدہ قوم اپنے بعد والوں کے لیے درس عبرت ہوتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح کے واقعات سے درس حاصل کرتے ہوں۔

یہاں تسبیح اور نماز کی جو تلقین کی گئی ہے وہ مکی دور کے انتہائی سخت حالات میں کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ انکار اور مخالفت کے سخت ترین حالات میں نماز اور خدا کی یاد مومن کی ڈھال ہے۔ اس سے راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اور فتوحات کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس سے سب کچھ اتنی بڑی مقدار میں مل جاتا ہے کہ آدمی اس کو پاکر راضی ہوجائے۔