Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Taha 20:58

20:58
فلناتينك بسحر مثله فاجعل بيننا وبينك موعدا لا نخلفه نحن ولا انت مكانا سوى ٥٨
فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍۢ مِّثْلِهِۦ فَٱجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًۭا لَّا نُخْلِفُهُۥ نَحْنُ وَلَآ أَنتَ مَكَانًۭا سُوًۭى ٥٨
فَلَنَأۡتِيَنَّكَ
بِسِحۡرٖ
مِّثۡلِهِۦ
فَٱجۡعَلۡ
بَيۡنَنَا
وَبَيۡنَكَ
مَوۡعِدٗا
لَّا
نُخۡلِفُهُۥ
نَحۡنُ
وَلَآ
أَنتَ
مَكَانٗا
سُوٗى
٥٨
We can surely meet you with similar magic. So set for us an appointment that neither of us will fail to keep, in a central place.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 20:56 to 20:58

حضرت موسیٰ کی دعوت فرعون کے اوپر لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس دوران آپ نے اس کے سامنے عقلی دلائل بھی پیش کيے اور حسی معجزے بھی دکھائے۔ مگر وہ حضرت موسیٰ پر ایمان نہ لایا۔ حضرت موسیٰ کی سچائی کا اقرار فرعون کے لیے اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا۔ اور فرعون کی متکبرانہ نفسیات اس میں مانع ہوگئی کہ اپنی نفی کی قیمت پر وہ سچائی کا اقرار کرے۔

حضرت موسیٰ کے عقلی دلائل کو فرعون نے غیر متعلق باتوں کے ذریعے بے اثر کرنے کی کوشش کی اور آپ کے معجزات کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ یعنی ایک ایسی چیز جس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر آدمی مہارت پیدا کرکے اس قسم کا کرشمہ دکھا سکتا ہے۔ اپنی اس ڈھٹائی کو نباہنے کے لیے مزید اس کو یہ کرنا پڑا کہ اس نے کہا کہ ہم بھی اپنے جادوگروں کے ذریعے ویسا ہی کرشمہ دکھا سکتے ہیں جیسا کرشمہ تم نے ہمیں دکھایا ہے۔ گفتگو کے بعد بالآخر یہ طے ہوا کہ آنے والے قومی میلے کے دن ملک کے جادو گروں کو جمع کیا جائے اور سب کے سامنے موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہو۔