ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Al-An'am 6:141

6:141
۞ وهو الذي انشا جنات معروشات وغير معروشات والنخل والزرع مختلفا اكله والزيتون والرمان متشابها وغير متشابه كلوا من ثمره اذا اثمر واتوا حقه يوم حصاده ولا تسرفوا انه لا يحب المسرفين ١٤١
۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّـٰتٍۢ مَّعْرُوشَـٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَـٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَـٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَـٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ ١٤١
۞ وَهُوَ
ٱلَّذِيٓ
أَنشَأَ
جَنَّٰتٖ
مَّعۡرُوشَٰتٖ
وَغَيۡرَ
مَعۡرُوشَٰتٖ
وَٱلنَّخۡلَ
وَٱلزَّرۡعَ
مُخۡتَلِفًا
أُكُلُهُۥ
وَٱلزَّيۡتُونَ
وَٱلرُّمَّانَ
مُتَشَٰبِهٗا
وَغَيۡرَ
مُتَشَٰبِهٖۚ
كُلُواْ
مِن
ثَمَرِهِۦٓ
إِذَآ
أَثۡمَرَ
وَءَاتُواْ
حَقَّهُۥ
يَوۡمَ
حَصَادِهِۦۖ
وَلَا
تُسۡرِفُوٓاْۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُحِبُّ
ٱلۡمُسۡرِفِينَ
١٤١
[141] และพระองค์นั้นคือผู้ที่ทรงให้มีขึ้น ซึ่งสวนทั้งหลาย ทั้งที่ถูกให้มีร้านขึ้น และไม่ถูกให้มีร้านขึ้น และต้นอินทผลัม และพืชโดยที่ผลของมันต่าง ๆ กัน และต้นซัยตูน และต้นทับทิมโดยที่มีความละม้ายคล้ายกัน และไม่ละม้ายคล้ายกัน จงบริโภคจากผลของมันเถิดเมื่อมันออกผลและจงจ่ายส่วนอันเป็นสิทธิ ในมันด้วย ในวันแห่งการเก็บเกี่ยวมัน และจงอย่าฟุ่มเฟือยทั้งหลาย
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 6:141 ถึง 6:142

خدا نے انسان کے ليے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو زمین میں پھیلتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، سبزیاں وغیرہ۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے تنا پر کھڑی رہتی ہیں۔ مثلاً کھجور، آم وغیرہ۔ اسی طرح آدمی کی ضرورت کے لیے مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جانور پیدا كيے۔ مثلاً اونٹ گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔

آدمی ایک علیٰحدہ مخلوق ہے اور بقیہ چیزیں علیٰحدہ مخلوق۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ پیدا ہوئے ہیں۔ مگر انسان دیکھتا ہے کہ دونوں میں زبردست ہم آہنگی ہے۔ آدمی کے جسم کو اگر غذائیت درکار ہے تو اس کے باہر ہرے بھرے درختوں میں حیرت انگیز قسم کے غذائی پیکٹ لٹک رہے ہیں۔ اگر اس کی زبان میں مزه كا احساس پايا جاتا هے تو پھلوں كے اندر اس كي تسكين كا اعليٰ سامان موجود هے۔ اگر اس كي آنكھوں ميں حسنِ نظر کا ذوق ہے تو قدرت کا پورا کارخانہ حسن اور دل کشی کا مرقع بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو سواری اور بار برداری کے ذرائع درکار ہیں تو یہاں ایسے جانور موجود ہیں جو اس کے ليے نقل وحمل کا ذریعہ بھی بنیں اور اسی کے ساتھ اس کے ليے قیمتی غذا بھی فراہم کریں۔ اس طرح کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کا اعلان بن گئی ہے۔ کیوں کہ کائنات کے مختلف مظاہر میں یہ وحدت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق ومالک ایک ہو۔

آدمی جب دیکھتا ہے کہ اتنا عظیم کائناتی اہتمام اس کے کسی ذاتی استحقاق کے بغیر ہورہا ہے تو اس یک طرفہ انعام پر اس کا دل شکر کے جذبے سے بھر جاتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ سارا معاملہ آدمی کے لیے تقویٰ کی غذا بن جاتاہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عنایت (privilege) کے ساتھ ذمہ داری (responsibility) ہو۔ یہ چیز آدمی کو جزا وسزا کی یاددلاتی ہے اور اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہے کہ ایک دن اس کو خدا کے سامنے حساب کے ليے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساسات اگر حقیقی طورپر آدمی کے اندر جاگ اٹھیں تو لازمی طورپر اس کے اندر دو باتیں پیدا ہوں گی۔ ایک یہ کہ اس کو جو کچھ ملے گا اس میں وہ اپنے مالک کا حق بھی سمجھے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ صرف واقعی ضرورت کے بقدر خرچ کرے گا، نہ کہ فضول ا ور بے موقع خرچ کرنے لگے۔ مگر شیطان یہ کرتا ہے کہ اصل رخ سے آدمی کا ذہن موڑ کر اس کو دوسری غیر متعلق باتوں میں الجھا دیتاہے۔